لکھنؤ،11 ؍اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے راجستھان، اتر پردیش میں لکھیم پور کھیری اور جموں و کشمیر میں حالیہ پرتشدد واقعات پر متعلقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اتوار کو سلسلہ وار ٹویٹس میں مایاوتی نے راجستھان کے ہنومان گڑھ میں ایک دلت کے قتل کے سلسلے میں ریاست کی حکمراں کانگریس حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ راجستھان کے ہنومان گڑھ میں ایک دلت کا قتل بہت افسوسناک اور قابل مذمت ہے، لیکن کانگریس ہائی کمان خاموش کیوں ہے؟ کیا چھتیس گڑھ اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ وہاں جائیں گے اور متاثرہ کے خاندان کو 50 ،50لاکھ روپئے دیں گے؟ بی ایس پی جواب چاہتی ہے ورنہ دلتوں کے نام پر مگرمچھ کے آنسو بہانا بند کرو۔
ایک اور ٹویٹ میں مایاوتی نے اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ لکھیم پور کھیری گھناؤنے واقعہ میں مرکزی وزیر کے بیٹے کا نام سرخیوں میں آنا کئی بی جے پی حکومت کے کام کرنے کے انداز پر سوال پیدا کرتا ہے، ایسی صورتحال میں بی جے پی کو اپنے وزیر سے خود ہی استعفیٰ لینا چاہیے، تبھی کسانوں کو کچھ انصاف ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔ حال ہی میں جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں دو افراد کی ہلاکت کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے کہاکہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ لوگوں کا قتل انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ بی ایس پی مرکزی حکومت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔